ہم کیسے مدد کرتے ہیں
- معاہدے کی خلاف ورزی کے دعوے
- قابلِ بیع دستاویزات پر سمری دعوے
- بینکنگ اور مالیاتی وصولی
- ثالثی اور ایوارڈ کا نفاذ
- فوری حکم امتناعی اور عبوری ریلیف
- شراکت داری اور کاروباری تنازعات
- تصفیے کے لیے مذاکرات
فورمز اور عدالتیں
- بینکنگ کورٹس
- سول کورٹس، سٹی کورٹس کراچی
- سندھ ہائی کورٹ (ابتدائی دیوانی اختیار)
- ثالثی ٹربیونلز
- سپریم کورٹ آف پاکستان
متعلقہ قوانین
- ضابطہ دیوانی، 1908 (بشمول آرڈر XXXVII)
- فنانشل انسٹی ٹیوشنز (ریکوری آف فنانسز) آرڈیننس، 2001
- آربٹریشن ایکٹ (قانونِ ثالثی)، 1940
- کنٹریکٹ ایکٹ، 1872
- نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ، 1881
عام سوالات
سمری دعویٰ کیا ہے؟
چیک یا پرامیسری نوٹ جیسی قابلِ بیع دستاویز پر ضابطہ دیوانی کے آرڈر XXXVII کے تحت دعویٰ۔ مدعا علیہ کو دفاع کی اجازت لینی پڑتی ہے، جس سے وصولی عام دعوے کی نسبت تیز ہو سکتی ہے۔
کیا مقدمے کے دوران فریقِ مخالف کو روکا جا سکتا ہے؟
جہاں مضبوط ابتدائی مقدمہ، سہولت کا توازن اور ناقابلِ تلافی نقصان کا خطرہ موجود ہو، عدالت صورتحال برقرار رکھنے کے لیے عبوری حکم امتناعی جاری کر سکتی ہے۔
یہ صفحہ پاکستان میں تجارتی مقدمات کے بارے میں عمومی معلومات ہے، آپ کے مخصوص معاملے پر قانونی مشورہ نہیں۔